مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حسین افشین نے پردیس ٹیکنالوجی پارک میں منعقدہ ٹیکنالوجی اولمپیاڈ 2026 کے موقع پر مصنوعی ذہانت کے معاون نظاموں کی سرکاری اداروں میں ترقی کی تازہ ترین صورتِ حال سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اس منصوبے کے دوسرے مرحلے میں ان اداروں کی معاونت کے مقصد سے، جنہوں نے مصنوعی ذہانت کے معاون نظام تیار کرنے کے لیے پہل کی ہے، اب تک تقریباً 70 ادارے اپنی تجاویز پیش کر چکے ہیں۔
انہوں نے آئندہ دو ہفتوں میں ملک کی مصنوعی ذہانت کی کامیابیوں کو متعارف کروانے کے لیے ایک نمائش کے انعقاد کی خبر دیتے ہوئے کہا کہ اس نمائش میں وزراء، نائب وزراء، ڈائریکٹر جنرلز، پارلیمنٹ کے ارکان اور صوبوں کے گورنر، بحیثیتِ فیصلہ ساز، شرکت کریں گے، تاکہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں موجود مصنوعات اور کامیابیوں سے آگاہ ہو سکیں۔
اس کے علاوہ ایک دن صحافیوں کے دورے کے لیے مختص کیا جائے گا، تاکہ وہ ان مصنوعات کو قریب سے دیکھ سکیں۔
معاونِ صدر برائے سائنسی امور نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یہ نمائش مصنوعات پر مرکوز ہوگی، کہا کہ اس نمائش کا محور کمپنیاں نہیں، بلکہ مصنوعی ذہانت کی مختلف شعبوں سے متعلق مصنوعات ہوں گی۔ مثال کے طور پر، شعبۂ صحت میں ریڈیولوجی اور اینڈوسکوپی کی تصاویر کے تجزیے کے لیے مصنوعات پیش کی جائیں گی، جبکہ شعبۂ توانائی میں بھی متعدد مصنوعات متعارف کروائی جائیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اعلانِ عام کے بعد کمپنیوں نے اپنی مصنوعات متعارف کروائیں، جن کا جائزہ لیا گیا۔ ہر شعبے میں منتخب کردہ ان مصنوعات کو نمائش کے لیے چنا گیا ہے جو تجارتی مرحلے تک پہنچ چکی ہیں یا علم پر مبنی (دانش بنیان) مصنوعات کا درجہ حاصل کر چکی ہیں۔ البتہ ممکن ہے کہ بعض دیگر مصنوعات بھی علم پر مبنی مصنوعات بننے کے مراحل میں ہوں۔
جناب افشین نے نمائش میں پیش کی جانے والی مصنوعات کی تعداد محدود ہونے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ صدرِ مملکت کے اس نمائش کے دورے کے پیش نظر فیصلہ کیا گیا ہے کہ مختلف شعبوں میں زیادہ سے زیادہ 40 مصنوعات متعارف کروائی جائیں گی۔ اس کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران ملک نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کون سی مصنوعات تیار کی ہیں، کتنی ترقی کی ہے اور دنیا کے مقابلے میں اس وقت کس مقام پر کھڑا ہے۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ مختلف سرکاری اداروں کے منتخب کردہ مصنوعی ذہانت کے معاون نظام بھی اس نمائش میں پیش کیے جائیں گے اور نمائش کے انعقاد کے بعد مصنوعی ذہانت کے معاون نظاموں کی ترقی کے منصوبے کا دوسرا مرحلہ شروع کیا جائے گا۔
آپ کا تبصرہ